ایپ یا ویب سائٹ: آپ کے کاروبار کو پہلے کیا چاہیے؟

زیادہ تر پاکستانی کاروباروں کو پہلے ویب سائٹ چاہیے، ایپ نہیں۔ جانیں کہ ایپ یا ویب سائٹ میں سے آپ کو کیا چاہیے اور ایپ کب فائدہ دیتی ہے۔

"کیا ہمیں بھی ایپ بنوا لینی چاہیے؟" یہ ان پہلے سوالوں میں سے ہے جو کاروبار کے مالک ہم سے پوچھتے ہیں۔ عموماً اس لیے کہ کسی مقابل نے ایپ بنوا لی ہے، یا کسی رشتہ دار نے کہہ دیا کہ اب زمانہ ایپس کا ہے۔

سوال بالکل جائز ہے۔ لیکن زیادہ تر کاروباروں کے لیے ایپ پہلا قدم نہیں ہوتی، اور غلط وقت پر بنوائی جائے تو مہنگی بھی پڑتی ہے۔

ایپ یا ویب سائٹ: مجھے کس کی ضرورت ہے؟

زیادہ تر چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو پہلے ایسی ویب سائٹ بنوانی چاہیے جو موبائل پر اچھی چلے۔ گاہک آپ کو گوگل پر ڈھونڈ لیتے ہیں، واٹس ایپ یا انسٹاگرام کے لنک سے ایک ٹیپ میں کھول لیتے ہیں، اور انہیں کچھ انسٹال نہیں کرنا پڑتا۔ ایپ تب فائدہ دیتی ہے جب وہی گاہک بار بار واپس آتے ہوں، مثلاً ہر ہفتے آرڈر، باقاعدہ بکنگ یا روزانہ کچھ دیکھنا، یا جب آپ کو فون کی اپنی سہولتیں چاہییں، جیسے نوٹیفکیشن، کیمرہ، لوکیشن یا انٹرنیٹ کے بغیر کام۔ اگر ابھی ان میں سے کوئی بات آپ پر پوری نہیں اترتی تو ویب سائٹ کم خرچ میں زیادہ کام کرے گی۔

وجہ سیدھی ہے۔ لوگ کاروبار کو تلاش کرتے ہیں، مگر ایپ صرف اس کاروبار کی انسٹال کرتے ہیں جسے وہ پہلے سے استعمال کرتے ہوں اور جس پر بھروسہ ہو۔ ویب سائٹ سے نئے گاہک آپ تک پہنچتے ہیں۔ ایپ سے پرانے گاہک آپ کے قریب رہتے ہیں۔

دو خانے۔ دائیں طرف ویب سائٹ: گوگل پر تلاش میں ملتی ہے، واٹس ایپ کے لنک سے کھلتی ہے، کچھ انسٹال نہیں کرنا پڑتا۔ بائیں طرف ایپ: بار بار آنے والے گاہک، نوٹیفکیشن، کیمرہ اور لوکیشن۔
ویب سائٹ سے نئے گاہک آپ کو ڈھونڈتے ہیں؛ ایپ سے پرانے گاہک آپ کے قریب رہتے ہیں۔

ویب سائٹ وہ کون سے کام کر سکتی ہے جن کی لوگ توقع نہیں کرتے؟

بہت سے مالک ویب سائٹ کو ایک آن لائن بروشر سمجھتے ہیں۔ آج کی ویب سائٹ فون کے براؤزر میں ہی اس سے کہیں زیادہ کر سکتی ہے:

  • بکنگ لینا۔ کلینک، سیلون یا کنسلٹنٹ کے لیے وقت کی بکنگ، اور تصدیق کا پیغام واٹس ایپ پر۔
  • آرڈر لینا۔ کیش آن ڈیلیوری بھی، اور JazzCash، Easypaisa یا کارڈ سے آن لائن پیمنٹ بھی۔
  • گاہک کا اپنا لاگ اِن۔ جہاں وہ اپنے آرڈر، بل یا اپائنٹمنٹ دیکھ سکے۔
  • ہوم اسکرین پر جگہ۔ گاہک اسے اپنے فون کی ہوم اسکرین پر لگا سکتا ہے، اور پھر یہ ایپ کی طرح پوری اسکرین پر کھلتی ہے۔
  • گوگل پر نظر آنا۔ جب کوئی وہ چیز تلاش کرے جو آپ بیچتے ہیں۔ یہ کام اکیلی ایپ نہیں کر سکتی۔

جب ویب سائٹ میں لاگ اِن، ڈیش بورڈ اور عملے کے الگ الگ اختیارات ہوں تو ہم اسے ویب ایپلیکیشن کہتے ہیں۔ اس سے ایپ والے زیادہ تر کام ہو جاتے ہیں، اور کسی کو کچھ ڈاؤن لوڈ نہیں کرنا پڑتا۔

موبائل ایپ واقعی کب فائدہ دیتی ہے؟

ایپ اپنا خرچہ تب پورا کرتی ہے جب ان 5 نشانیوں میں سے کئی آپ پر پوری اتریں:

  1. گاہک بار بار واپس آتے ہیں۔ ہر ہفتے کا راشن، روزانہ ریٹ دیکھنا، باقاعدہ بکنگ۔ جو گاہک سال میں ایک دو بار آتا ہے، وہ آپ کی ایپ فون میں نہیں رکھے گا۔
  2. آپ کو فوراً ان تک پہنچنا ہوتا ہے۔ آرڈر کی اپڈیٹ، قیمت کا الرٹ یا یاد دہانی کا نوٹیفکیشن ایپ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
  3. آپ کو فون کی اپنی چیزیں چاہییں۔ اسکین کرنا، تصویر کھینچنا، رائیڈر کی GPS لوکیشن، یا فیلڈ میں انٹرنیٹ کے بغیر کام۔
  4. ایپ ہی آپ کی سروس ہے۔ بکنگ پلیٹ فارم، ڈیلیوری سروس یا مارکیٹ پلیس، جہاں گاہک پیسے ہی ایپ کے دیتا ہے۔
  5. گاہک خود ایپ مانگ رہے ہیں۔ اصل مانگ، اندازے سے بہتر ہے۔

اگر 5 میں سے صرف 1 نشانی پوری اتری، یا کوئی بھی نہیں، تو ویب سائٹ سے شروع کریں۔ اگر 3 یا اس سے زیادہ پوری اتریں تو ایپ پر سنجیدگی سے بات کرنی چاہیے۔

ایپ کے فائدہ مند ہونے کی 5 نشانیاں، دائیں سے بائیں: 1 گاہک بار بار واپس آتے ہیں، 2 فوراً ان تک پہنچنا، 3 فون کا کیمرہ اور لوکیشن، 4 ایپ ہی سروس ہے، 5 گاہک خود مانگ رہے ہیں۔ نیچے: ایک نشان ہو تو ویب سائٹ، تین نشان ہوں تو ایپ۔
جو نشانیاں آج آپ کے کاروبار پر پوری اترتی ہیں ان پر نشان لگائیں: 1 یا کوئی نہیں تو ویب سائٹ، 3 یا زیادہ تو ایپ۔

ہر آپشن میں کیا کچھ شامل ہوتا ہے؟

بزنس ویب سائٹ ویب ایپلیکیشن موبائل ایپ
گوگل پر ملتی ہے ہاں ہاں (عوامی صفحات) نہیں، صرف ایپ اسٹور میں
انسٹال کرنی پڑتی ہے نہیں نہیں ہاں
نوٹیفکیشن محدود محدود ہاں
بننے کا وقت 2 سے 3 ہفتے 4 سے 8 ہفتے 6 سے 10 ہفتے
شروع کی قیمت PKR 50,000 سے ہمارے پیکجز دیکھیں کال کے بعد تحریری کوٹ

ایپ کے ساتھ کچھ ایسے خرچے بھی آتے ہیں جو ویب سائٹ میں نہیں ہوتے۔ Apple اور Google اپنے ڈیولپر اکاؤنٹ کی فیس لیتے ہیں، جس کی تازہ رقم آپ Apple Developer Program اور Google Play Console کے صفحات پر دیکھ سکتے ہیں۔ فون کا سسٹم نیا آئے تو ایپ کو اپڈیٹ کرنا پڑ سکتا ہے، اور ہر نیا ورژن اسٹور کی جانچ سے گزرتا ہے۔ یہ ایپ سے بچنے کی وجہ نہیں۔ بس اسے تب بنوائیں جب وہ اپنا خرچہ خود نکال سکے۔

اگر آپ پہلے صرف ویب سائٹ کا حساب سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمارا مضمون پاکستان میں ویب سائٹ کتنے کی بنتی ہے؟ پڑھ لیں۔

عملی طور پر یہ فیصلہ کیسا لگتا ہے؟

ہمارے کام سے ایک اصل مثال: PoultryBaba، جو پاکستان میں پولٹری کی مارکیٹ کا پلیٹ فارم ہے۔ ہم نے اسے شروع سے آخر تک بنایا: مرغی منڈی کے لائیو ریٹ والا ویب پلیٹ فارم، ایک B2B ڈائریکٹری اور Android ایپ۔ یہاں دونوں چیزیں بنتی تھیں، کیونکہ فارمر اور تاجر ریٹ بار بار دیکھتے ہیں، یعنی وہی "گاہک بار بار واپس آتے ہیں" والی نشانی، جبکہ گوگل پر لوگوں کو ویب پلیٹ فارم ہی ملتا ہے۔

اور اب تین فرضی مثالیں۔ یہ عام صورتحال ہیں، ہمارے کلائنٹ نہیں:

  • فرض کریں آپ کی لاہور میں بیکری ہے اور دو برانچیں ہیں۔ گاہک آپ کا مینیو، پتہ اور کیک آرڈر کرنے کا طریقہ چاہتے ہیں۔ واٹس ایپ آرڈر کے بٹن والی ویب سائٹ یہ سب کر دیتی ہے۔ ایپ زیادہ تر فونوں میں بغیر کھلے پڑی رہے گی۔
  • فرض کریں آپ اسکول چلاتے ہیں۔ والدین کو فیس واؤچر، رزلٹ اور نوٹس چاہییں۔ والدین کے لاگ اِن والا ویب پورٹل صحیح شروعات ہے۔ بعد میں فوری الرٹ کی ضرورت پڑے تو اسی سسٹم کے اوپر ایپ بن سکتی ہے۔
  • فرض کریں آپ کا ڈیلیوری کا کام ہے اور رائیڈر پورے شہر میں پھیلے ہیں۔ رائیڈر کو لائیو لوکیشن، آرڈر کی اپڈیٹ اور ڈیلیوری کی تصویر چاہیے۔ یہ ایپ کا اصل کام ہے، رائیڈرز کے لیے، چاہے گاہک ویب سائٹ سے ہی آرڈر کریں۔

کیا پہلے ویب سائٹ بنوا کر بعد میں ایپ بنوائی جا سکتی ہے؟

جی ہاں، اور عموماً یہی بہتر ترتیب ہے۔ پہلے ویب سائٹ بنوائیں، دیکھیں کہ گاہک اصل میں کیا استعمال کرتے ہیں، پھر ایپ انہی چیزوں کے گرد بنوائیں جن کے لیے وہ واپس آتے ہیں۔ اگر ویب سائٹ صحیح بنیاد پر بنی ہو تو ایپ وہی پروڈکٹس، آرڈرز اور گاہکوں کے اکاؤنٹس استعمال کر لیتی ہے۔ یوں آپ ایک ہی کام کے پیسے دو بار نہیں دیتے۔

فرضی تصویر: گھر کی میز پر بچے کے ہاتھ کاغذ پر رنگین پنسل سے ڈرائنگ بنا رہے ہیں، ساتھ والد یا والدہ کے ہاتھ میں فون ہے، میز پر رنگین پنسلیں بکھری ہیں، چہرے نظر نہیں آتے۔
فرضی تصویر، کسی کلائنٹ کی نہیں: والدین کو فیس واؤچر اور رزلٹ دیکھنے ہوں تو لاگ اِن والا ویب پورٹل کافی ہے، ایپ بعد میں بن سکتی ہے۔

فیصلہ کرنے کا فوری طریقہ

ان پانچ سوالوں کا ایمانداری سے جواب دیں:

  • کیا زیادہ تر نئے گاہک آپ کو گوگل یا سوشل میڈیا سے ڈھونڈتے ہیں؟ تو آپ کو ویب سائٹ چاہیے۔
  • کیا وہی گاہک ہر ہفتے یا اس سے بھی زیادہ واپس آتے ہیں؟ تو ایپ فائدہ دے سکتی ہے۔
  • کیا آپ کو نوٹیفکیشن، GPS، کیمرہ یا انٹرنیٹ کے بغیر کام چاہیے؟ یہ ایپ کی طرف اشارہ ہے۔
  • کیا اس سال بجٹ صرف ایک پروجیکٹ کا ہے؟ تو ویب سائٹ سے شروع کریں۔
  • کیا گاہک پہلے سے ایپ مانگ رہے ہیں؟ تو اس بات کو سنجیدگی سے لیں۔

ابھی بھی فیصلہ نہیں ہو رہا؟ ہمیں اپنے کاروبار اور اپنے گاہکوں کے بارے میں بتائیں۔ ہم ایمانداری سے بتا دیں گے کہ آپ کے لیے کیا ٹھیک ہے، چاہے جواب "ابھی نہیں" ہی ہو۔ ہمیں پیغام بھیجیں اور ہماری ٹیم کا ایک اصل آدمی آپ کو جواب دے گا۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا ویب سائٹ فون پر ایپ کی طرح چل سکتی ہے؟

جی ہاں۔ اچھی بنی ہوئی ویب سائٹ فون کی ہوم اسکرین پر لگائی جا سکتی ہے، پوری اسکرین پر کھلتی ہے اور بکنگ، آرڈر اور پیمنٹ بھی لے سکتی ہے۔ بہت سے کاروباروں کے لیے یہی کافی ہوتا ہے۔

کیا ویب سائٹ کا ڈیٹا بعد میں بننے والی ایپ میں استعمال ہو سکتا ہے؟

جی ہاں، اگر ویب سائٹ شروع سے صحیح بنیاد پر بنی ہو۔ پھر ایپ وہی پروڈکٹس، آرڈرز اور گاہکوں کے اکاؤنٹس استعمال کرتی ہے اور کام صفر سے شروع نہیں کرنا پڑتا۔

کیا Android اور iPhone کے لیے الگ الگ ایپ بنوانی پڑتی ہے؟

نہیں۔ ہم ایک ہی کوڈ سے ایسی ایپ بناتے ہیں جو Android اور iPhone دونوں پر چلتی ہے، اور اسے دونوں اسٹورز پر آپ کے اپنے نام کے اکاؤنٹس میں شائع کرتے ہیں۔

ویب سائٹ کے مقابلے میں موبائل ایپ بننے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

بزنس ویب سائٹ 2 سے 3 ہفتوں میں، ویب ایپلیکیشن 4 سے 8 ہفتوں میں اور موبائل ایپ 6 سے 10 ہفتوں میں بنتی ہے۔ ہر پروپوزل میں ڈیلیوری کی پکی تاریخ لکھی ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں

تمام مضامین